پشاوری قہوہ
قہوہ وہ ہلکی سنہری سبز چائے ہے جو خیبر پختونخوا میں ہر جگہ چھوٹی پیالیوں میں پیش ہوتی ہے، پشاور کے قصہ خوانی بازار سے لے کر ہر حجرے تک جہاں مہمان آتے ہیں۔ یہ بغیر دودھ کے پی جاتی ہے، عموماً کڑاہی یا چپلی کباب جیسے بھاری کھانے کے بعد، کیونکہ یہ ہلکی لگتی ہے اور ہاضمے میں مدد دیتی ہے۔ اچھے قہوے کا راز یہ ہے کہ الائچی خوب اُبالی جائے مگر سبز پتی آنچ بند کر کے بھگوئی جائے، تاکہ قہوہ کڑوا ہونے کے بجائے خوشبودار رہے۔
- ⏱ کل وقت: 10 منٹ
- تیاری: 2 منٹ
- پکانا: 8 منٹ
- آسان
- افراد 3
ترکیب
مرحلہ مکمل ہونے پر ٹیپ کریں۔
الائچی کو بیلن یا دستے سے ہلکا سا کُوٹ لیں تاکہ چھلکا کھل جائے مگر دانے بکھریں نہیں۔
میں پانی اور الائچی ڈال کر تیز آنچ پر ۴ سے ۵ منٹ اُبالیں، یہاں تک کہ پانی سے الائچی کی تیز خوشبو آنے لگے۔
آنچ بند کریں، سبز پتی ڈالیں، ڈھکن ڈھانپ کر ۲ سے ۳ منٹ بھیگنے دیں، یہاں تک کہ قہوہ ہلکا سنہری ہو جائے۔ پتی کو اُبالیں نہیں۔
چینی ڈال کر گھلنے تک ہلائیں۔ اگر شہد پسند ہو تو چینی نہ ڈالیں اور شہد کپوں میں ڈالیں۔
چھوٹی پیالیوں میں چھان لیں، ہر ایک میں لیموں کا رس نچوڑیں اور ایک پتلا ٹکڑا ڈالیں، اور گرم گرم پیش کریں۔
باورچی خانے کے نوٹس
سبز پتی کو اُبالنے یا ۳ منٹ سے زیادہ بھگونے سے قہوہ کڑوا اور گہرا ہو جاتا ہے۔ تھوڑی دیر بھگو کر چھان لیں۔
لیموں پیالی میں ڈالیں، پتیلے میں نہیں۔ چائے کے ساتھ اُبلا ہوا لیموں تازگی کھو دیتا ہے اور قہوہ ترش لگنے لگتا ہے۔
پشاور کی چائے
قہوہ پختون مہمان نوازی کا حصہ ہے۔ پشاور کے پرانے شہر میں قہوہ خانے نسلوں سے پیتل کی بڑی کیتلیوں سے قہوہ ڈالتے آئے ہیں، بغیر دستے والی چھوٹی پیالیوں میں، جو باتوں کے دوران بار بار بھری جاتی ہیں۔ گھروں میں یہ دوپہر اور رات کے کھانے کے بعد آتا ہے، خاص طور پر کڑاہی، چپلی کباب یا پلاؤ جیسے گوشت والے کھانوں کے بعد، اور مہمان کے بیٹھتے ہی پیش کیا جاتا ہے۔ سردیوں میں بھی یہ ان لوگوں کی پسند ہے جو دودھ کے بغیر کچھ گرم پینا چاہتے ہیں۔
الائچی اُبالیں، پتی بھگوئیں
الائچی کو اپنا ذائقہ پانی میں چھوڑنے کے لیے اچھا اُبال چاہیے، اس لیے پورے ۴ سے ۵ منٹ دیں۔ سبز پتی اس کے الٹ ہے: یہ نازک ہوتی ہے، اور اُبالنے سے اس میں سے کڑواہٹ نکلتی ہے اور رنگ بھورا ہو جاتا ہے۔ پتی ڈالنے سے پہلے آنچ بند کرنا، ڈھکن ڈھانپنا اور ۲ سے ۳ منٹ بعد چھان لینا قہوے کو صاف، ہلکا سنہری اور خوشبودار رکھتا ہے۔ پتی بھی ناپ کر ڈالیں؛ زیادہ پتی سے قہوہ بہتر نہیں بلکہ تیز اور کڑوا ہوتا ہے۔
مختلف انداز
- شہد لیموں والا قہوہ: چینی نہ ڈالیں اور ہر پیالی میں ذرا ٹھنڈا ہونے پر ایک چائے کا چمچ شہد ملائیں۔ گلے کی خراش میں یہ انداز بہت پسند کیا جاتا ہے۔
- مصالحے دار قہوہ: الائچی کے ساتھ دار چینی کا چھوٹا ٹکڑا یا چند دانے سونف ڈال دیں۔
- میوے والا قہوہ: پشاور کے کچھ قہوہ خانے ہر پیالی میں چند کُٹے ہوئے بادام ڈالتے ہیں۔
پیش کرنا
قہوہ چھوٹی پیالیوں یا گلاسوں میں، خوب گرم، لیموں کے ٹکڑے کے ساتھ پیش کریں۔ تازہ بنا ہوا ہی بہترین ہے، کیونکہ پتی پر پڑا رہے تو کڑوا ہو جاتا ہے۔ زیادہ مہمان ہوں تو الائچی والا پانی پہلے سے اُبال کر رکھ لیں اور پتی تب ڈالیں جب پیش کرنے کا وقت ہو۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
قہوہ اور گرین ٹی میں کیا فرق ہے؟
قہوہ بھی سبز چائے ہی ہے، مگر پاکستانی انداز میں: خوب الائچی کے ساتھ، میٹھا کر کے اور عموماً لیموں ڈال کر۔ سادہ گرین ٹی صرف پتی اور گرم پانی ہوتی ہے۔
کیا قہوہ ہاضمے کے لیے اچھا ہے؟
روایتی طور پر یہ مرغن کھانوں کے بعد پیا جاتا ہے کیونکہ گرم ہلکی چائے اور الائچی بھرے پیٹ کو سکون دیتی ہیں۔ یہ ایک آرام دہ عادت ہے، دوا نہیں۔
کیا گرین ٹی بیگ سے قہوہ بن سکتا ہے؟
جی ہاں۔ فی کپ ایک بیگ لیں، آنچ بند کرنے کے بعد ڈالیں اور ۲ منٹ بعد نکال لیں۔
غذائیت (اندازاً، فی کس)
- کیلوریز
- 20
- پروٹین
- 0 g
- چکنائی
- 0 g
- کاربوہائیڈریٹ
- 5 g