مرغی، مٹن یا بیف؟
پاکستانی گھروں میں تینوں پکتے ہیں، اور فرق مصالحے سے زیادہ وقت میں ہوتا ہے۔ مرغی عام دنوں کا گوشت ہے: چکن سالن یا کڑاہی ایک گھنٹے سے کم میں تیار ہو جاتی ہے۔ مٹن (بکرے کا گوشت) عید اور مہمانوں کا گوشت ہے؛ گلنے میں ۶۰ سے ۹۰ منٹ یا پریشر ککر چاہیے۔ بیف سستا ہے اور ذائقہ سب سے گہرا، اسی لیے نہاری، حلیم اور شامی کباب جیسے دیر سے پکنے والے کھانوں کا روایتی گوشت یہی ہے۔
قصائی سے صحیح کٹ مانگیں
یہاں زیادہ تر ترکیبیں ہڈی والے چھوٹے ٹکڑوں کے حساب سے ہیں، کیونکہ ہڈی شوربے کو گاڑھا پن دیتی ہے۔ دکان پر چند الفاظ کام آتے ہیں۔ کڑاہی کٹ یعنی بغیر کھال کی پوری مرغی کے ۱۲ سے ۱۶ چھوٹے ٹکڑے۔ قورمے یا سالن کی بوٹیاں بڑی ہوتی ہیں۔ نہاری کے لیے بیف کی نلی مانگیں، اور کباب کے لیے قیمہ دو بار پسوائیں اور تھوڑی چربی رہنے دیں۔ بالکل خالص قیمے سے کباب سوکھے بنتے ہیں۔
گوشت کیسے گلائیں
سخت گوشت سب سے عام شکایت ہے، اور اس کی تقریباً ہمیشہ تین وجوہات ہوتی ہیں: گوشت جلدی جلدی تیز آنچ پر پکایا گیا، پانی سوکھ گیا، یا کٹ ہی اس کھانے کے لیے غلط تھی۔ آہستہ پکنے والے کھانوں کو ہلکی آنچ اور ڈھکن چاہیے۔ سخت مٹن کے لیے کچے پپیتے کا پیسٹ یا ایک چمچ دہی مدد کرتا ہے۔ پریشر ککر وقت تقریباً تین گنا کم کر دیتا ہے، اور بہت سی ترکیبوں میں دونوں طریقوں کا وقت دیا گیا ہے۔
بڑے موقعوں کے کھانے
ان میں سے کچھ ترکیبیں جلدی کی نہیں، اور یہی ان کی خوبی ہے۔ نہاری روایتی طور پر رات کو چڑھائی جاتی ہے۔ حلیم میں گھنٹوں پکانا اور لکڑی کے سے گھوٹنا شامل ہے۔ مٹن قورمہ اور پائے عید اور شادی کے کھانے ہیں۔ شروع کرنے سے پہلے ترکیب ایک بار پوری پڑھ لیں؛ مرحلے آسان ہیں، بس ان کے بیچ گھنٹے زیادہ ہیں۔
مچھلی اور سمندری کھانے
پاکستان میں مچھلی کا اپنا موسم ہے۔ سردی آتے ہی لاہور کی دکانوں پر بڑی کڑاہیوں میں اجوائن والی تیز لاہوری مچھلی تلی جاتی ہے، اور کراچی میں سمندر کی وجہ سے جھینگا کڑاہی سارا سال بنتی ہے۔ مچھلی ثابت خریدیں اور وہیں صاف کروا کر کٹوائیں؛ فرائی کے لیے رہو یا سنگھاڑا جیسی سخت دریائی مچھلی بہترین ہے۔