چائے کے ملک میں کافی
پاکستان کافی سے کہیں زیادہ چائے پیتا ہے، مگر کافی دہائیوں سے پاکستانی گھروں میں خاموشی سے موجود ہے، عموماً پھینٹی ہوئی کافی کی شکل میں: انسٹنٹ کافی اور چینی ہاتھ سے اتنی پھینٹی جائے کہ ہلکی رنگت کا جھاگ بن جائے، پھر اوپر گرم دودھ۔ ڈالگونا کے مشہور ہونے سے بہت پہلے پاکستانی گھروں میں سردیوں کی شاموں میں کپ میں کافی پھینٹی جاتی تھی۔ پچھلے پندرہ سالوں میں کیفے نے کیپوچینو، لاٹے اور موکا بھی متعارف کرا دیے ہیں۔
ایسپریسو مشین کی ضرورت نہیں
یہاں کی ہر ترکیب عام کچن کی چیزوں سے بنتی ہے۔ انسٹنٹ کافی سب سے آسان ہے اور زیادہ تر پاکستانی گھروں میں یہی ہوتی ہے۔ موکا پاٹ، یعنی چولہے پر رکھنے والا چھوٹا برتن، ایسپریسو کے قریب کڑک کافی بناتا ہے۔ فرنچ پریس یا فلٹر کافی بھی چلتی ہے اگر کڑک بنائی جائے۔ ترکیبوں میں ہر ایک کی مقدار دی گئی ہے۔
گھر پر دودھ کا جھاگ
کیفے کے مشروب زیادہ تر دودھ کی بناوٹ کا کھیل ہیں۔ اسٹیم والی مشین کے بغیر تین اچھے طریقے ہیں۔ جار کا طریقہ: صاف جار میں تہائی دودھ ڈالیں، بند کر کے ۳۰ سیکنڈ زور سے ہلائیں، پھر ڈھکن کھول کر ۳۰ سیکنڈ مائیکروویو کریں تاکہ جھاگ ٹھہر جائے۔ فرنچ پریس: گرم دودھ میں پلنجر ۱۵ سے ۲۰ بار اوپر نیچے کریں۔ وِسک یا ملک فروتھر: گرم، اُبلتا ہوا نہیں، دودھ اتنا پھینٹیں کہ دگنا ہو جائے۔ فل کریم دودھ میں جھاگ سب سے آسانی سے بنتا ہے۔
کون سی کافی کیا ہے
کیپوچینو میں تقریباً برابر کافی، گرم دودھ اور جھاگ ہوتا ہے۔ لاٹے میں دودھ زیادہ اور جھاگ کم۔ موکا میں چاکلیٹ ملتی ہے۔ اسپینش لاٹے چینی کے بجائے کنڈینسڈ ملک سے میٹھی ہوتی ہے۔ اور ڈالگونا پھینٹی ہوئی کافی کا اگلا قدم ہے، اتنی پھینٹی ہوئی کہ چمچ سے دودھ کے اوپر رکھی جا سکے۔