طریقے · 4 منٹ کا مطالعہ ·
بریانی اور پلاؤ میں اصل فرق کیا ہے؟
بریانی اور پلاؤ دیکھنے میں ملتے جلتے ہیں مگر ان کے پکانے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ طریقے، ذائقے اور موقع کا اصل فرق، اور دونوں کو ٹھیک بنانے کے گُر۔
دونوں میں چاول، گوشت اور مصالحے ہیں۔ دونوں شادیوں میں بڑی دیگوں سے نکلتے ہیں۔ اور روزمرہ بات چیت میں بہت سے لوگ دونوں نام ایک دوسرے کی جگہ بول دیتے ہیں۔ لیکن بریانی اور پلاؤ بنیادی طور پر الگ طریقوں سے بنتے ہیں، اور یہ فرق سمجھ میں آ جائے تو پتا چلتا ہے کہ ان کا ذائقہ اتنا مختلف کیوں ہے، اور ایک کو دوسرے میں کیوں نہیں بدلا جا سکتا۔
مختصر جواب
پلاؤ ایک ہی دیگچی میں پکتا ہے، اور چاول سارا پانی جذب کرتے ہیں۔ گوشت کو ثابت مصالحوں کے ساتھ ابال کر خوشبودار شوربہ، یعنی ، بنائی جاتی ہے، اور پھر کچے چاول اسی یخنی میں پکتے ہیں یہاں تک کہ ایک ایک قطرہ پی جائیں۔
بریانی تہوں میں جوڑی جاتی ہے۔ چاول الگ سے بہت سے نمکین پانی میں تقریباً تین چوتھائی پکا کر چھان لیے جاتے ہیں، اور پھر الگ سے پکے ہوئے تیز مصالحے دار گوشت کے اوپر تہوں میں لگائے جاتے ہیں۔ دیگچی بند کر کے دونوں کو پر ایک ساتھ پکنے دیا جاتا ہے۔
باقی سارا فرق اسی سے نکلتا ہے۔
ذائقے میں فرق
پلاؤ کے چاول یخنی پیتے ہیں، اس لیے ہر دانے کا ذائقہ ایک جیسا ہوتا ہے: گوشت کا رس، ہلکے مصالحے، خوشبو، اور رنگ عموماً ہلکا سنہری یا ہلکا بھورا۔ ذائقے نرم ہوتے ہیں، کچھ بھی تیز نہیں۔
بریانی کی جان تضاد ہے۔ چاول کچھ سفید اور کچھ زعفران یا رنگ سے رنگے ہوتے ہیں؛ نیچے والے دانوں میں مصالحے کی پوری طاقت ہوتی ہے جبکہ اوپر والے تقریباً سادہ، ثابت مصالحوں کی خوشبو والے۔ بریانی زیادہ تیز، زیادہ کھٹی (اکثر دہی، ٹماٹر، لیموں یا آلو بخارے سے) اور کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔
آمنے سامنے
| پلاؤ | بریانی | |
|---|---|---|
| چاول کیسے پکتے ہیں | یخنی میں، جذب ہو کر | الگ ابال کر، [[kanni |
| گوشت | شوربے کے لیے ابالا جاتا ہے | گاڑھے، تیز مصالحے میں پکتا ہے |
| مرچ مصالحہ | ہلکا، خوشبودار | تیز، اکثر چٹپٹا |
| رنگ | یکساں سنہری یا ہلکا بھورا | سفید اور زعفرانی، تہوں میں |
| آخری مرحلہ | ڈھک کر ہلکی آنچ | بند کر کے دم |
| ساتھ میں | رائتہ، سلاد، کبھی سالن | رائتہ، سلاد |
| عام موقع | روزمرہ گھریلو کھانا، پشاوری اور افغانی دسترخوان | تقریبات، اتوار، شادیاں |
پلاؤ ٹھیک کیسے بنے
پلاؤ کا راز یخنی ہے۔ اسے بنانے میں جلدی نہ کریں: ہڈی والا گوشت، پیاز، لہسن، ادرک اور ثابت مصالحے اتنی دیر پکائیں کہ گوشت گل جائے اور شوربہ گاڑھا ذائقہ دار ہو جائے۔ پھر ناپیں۔ پلاؤ پانی اور چاول کے درست تناسب پر چلتا ہے۔ شروعات کے لیے ہر ایک کپ بھیگے ہوئے باسمتی پر تقریباً ڈیڑھ کپ یخنی رکھیں، اور اگلی بار اپنے چاولوں کے حساب سے کم زیادہ کریں۔
جب یخنی جذب ہو جائے اور چاولوں کی سطح پر چھوٹے چھوٹے سوراخ نظر آنے لگیں تو اچھی طرح ڈھک کر سب سے ہلکی آنچ پر دس منٹ چھوڑ دیں۔ اس مرحلے پر چمچ نہ چلائیں، ورنہ دانے ٹوٹ جائیں گے۔
پہلے یخنی پلاؤ بنائیں، پھر سبزی والا مٹر پلاؤ، اور کچھ خاص بنانا ہو تو کابلی پلاؤ۔
بریانی ٹھیک کیسے بنے
بریانی کے مراحل زیادہ ہیں، مگر ہر ایک آسان ہے۔ مصالحہ پوری طرح پکا ہو، تیل الگ ہو چکا ہو، اور نمک ذرا تیز ہو، کیونکہ چاول کچھ نمک خود لے لیں گے۔ چاول ابالنے والا پانی چکھنے میں واقعی نمکین ہو۔ اور چاول صحیح وقت پر نکلیں: دانہ انگلیوں میں آسانی سے ٹوٹ جائے مگر بیچ میں ذرا سی سخت سفید کنی باقی ہو۔
اس کے بعد آرام سے تہیں لگائیں، چمچ نہ چلائیں، دیگچی اچھی طرح بند کریں اور بہت ہلکی آنچ پر پندرہ بیس منٹ دم دیں۔ ہماری چکن بریانی میں ہر مرحلہ تصویروں کے ساتھ ہے کہ دیگچی کیسی دکھنی چاہیے۔ آلو والی، زیادہ کھٹی اور تیز بریانی چاہیے تو سندھی بریانی بنائیں۔
عام الجھنیں
“میری بریانی پلاؤ جیسی بن گئی۔” عموماً اس کا مطلب ہے کہ تہیں لگانے کے بعد چمچ چلایا گیا، یا چاول زیادہ ابل گئے، اور تہیں مل کر ایک رنگ ہو گئیں۔ اگلی بار چاول ایک منٹ پہلے چھانیں اور ملانے سے خود کو روکیں۔
“میرا پلاؤ گیلا ہو جاتا ہے۔” پانی زیادہ تھا، یا چاول بھگوئے اور دھوئے نہیں گئے۔ یخنی ناپ کر ڈالیں اور چاول اتنا دھوئیں کہ پانی تقریباً صاف ہو جائے۔
“کیا پلاؤ میں مصالحہ ڈال کر بریانی بن سکتی ہے؟” اصل میں نہیں۔ تیز مصالحے والا پلاؤ بھی پلاؤ ہی رہتا ہے۔ بریانی تہوں اور الگ ابلے چاولوں سے بنتی ہے۔
کون سا پکائیں؟
ہفتے کے عام دن، کوئی ہلکا آرام دہ کھانا، یا ایسا مہمان جو مرچ کم کھاتا ہو: پلاؤ بنائیں۔ اتوار کا کھانا، کوئی خوشی کا موقع، یا تیز ذائقوں کے شوقین: بریانی بنائیں۔ زیادہ لوگوں کے لیے پکانا ہو تو ہمارا مضمون دعوت کا مینیو کیسے بنائیں دیکھیں، جس میں دونوں کو بڑی مقدار میں بغیر پریشانی بنانے کا طریقہ ہے۔